٢٧دسمبر کی تاریخ ہر پاکستانی کو یاد رہے گی

ARI Expeditions

محترمہ بے نظیر بھٹو کا سفاکانہ قتل ایک اندوہِناک سانحہ…. انکی شہادت کے بعد کراچی سمیت سندھ بھر میں کس کے ایما پر احتجاج کی آڑ میں عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے…

27 دسمبر کو صرف بے نظیر بھٹو کی شہادت کے طور پر یاد رکھنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اس دن صرف بے نظیر بھٹو ہی نہیں اس ملک کے کئی بے گناہ شہری بھی شہید ہوئے تھے جن کا کہیں کوئی ذکر نہیں… ظلم و بربریت کی ایسی مثال کہیں نہیں ملتی…..

کتنی ماؤں کی گود اجڑ گئ کتنی عورتوں کے سہاگ اور کتنے ہی بچوں کے سرپرست ماردیے گئے…

خواتین کے حقوق کے علمبردار کہاں تھے جب احتجاج کے نام پر کتنی بہنوں کے حرمت کو تاراج کیا گیا…

آبادیوں پر منظم حملے کرکے درجنوں افراد کو قتل کر دیا گیا اورکوئ روکنے والا نہ تھا… !!

ایسا کونسا غلط کام تھا جو 27 دسمبر کو احتجاج کے نام پر نہیں کیا گیا…

غریب عوام کی زندگی بھر کی جمع پونجی چند گھنٹوں میں لوٹنے والے یہ کون لوگ تھے؟؟

گھروں دفاتر حتی کہ ٹھیلوں کو لوٹ کر آگ لگانے والے یہ کون تھے ؟؟

ان معصوموں کا کیا قصور تھا جنہیں احتجاج کے نام پر زندہ جلایا گیا..

یہ احتجاج کا کونسا طریقہ تھا؟؟ آخر یہ کس کی جنونیت کی نظر ہوا؟؟

کیا یہی احتجاج تھا کہ غریبوں سے انکا روزگار چھین لیا جائے کیا یہ سب شہید بے نظیر بھٹو کے قتل کے ذمہ دار تھے؟؟

کس جرم کا قرض اتارا تھا ان معصوم بے گناہ شہریوں نے.. ریلوے کی اٹھارہ کروڑ کے املاک کو نظر آتش کردیا گیا..  ڈرگ اور لینڈ مافیا نے محض چند گھنٹوں میں شہر کو خون میں نہلایا…  خطرناک مجرموں کو جیل سے رہا کرکے احتجاج کے نام پر دہشت گردی کروانے والے ملک و قوم کے مجرم ہیں.. یہ کونسا ماتم تھا؟؟

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کا نام لینے والوں نے مساجد قرآن پاک کے ہزاروں نسخے جلادیے…  فسوس صد افسوس اس سانحہ پر اسلام کو استعمال کرنے والے خاموش رہے… 

یہ ایک لمحہ فکریہ ہے ایسے تمام نام نہاد سول سوسائٹی کے نمائندوں، قانون اور انصاف کی حکمرانی کے نام پر سیاست چمکانے والوں اور آزادیِ اظہار کا رونا رونے والوں کے لیے ان کی خاموشی مجرمانہ غفلت نہ سمجھی جائے تو اور کیا ہے. 

یہ احتجاج نہیں انتقام تھا پر امن شہریوں سے،ترقی کے تسلسل سے، انتقام تھا مہذب معاشرت سے، معیشت سے،یہ ماتم نہیں سازش تھی.. شہر کے خلاف، صوبے کے خلاف، ملک کے خلاف..  یہ سازش تھی روشنی کے خلاف، میرے خلاف، آپکے خلاف، ہمارے خلاف کوئ تحقیقات نہیں کوئی جے آئ ٹی نہیں کوئی انصاف نہیں…  گویا 27 دسمبر صرف بے نظیر بھٹو کی شہادت کے دن کے سوا کچھ بھی نہیں…

بلاگر: نمرہ شیخ

Facebook Comments

KaprayWapray.com

Facebook Comments