Wednesday , December 12 2018
Home / Feature / بلدیہ عظمیٰ کراچی کی انسداد تجاوزات کارروائی برنس روڈ پر دوسرے دن بھی جاری
Karachi
Karachi

بلدیہ عظمیٰ کراچی کی انسداد تجاوزات کارروائی برنس روڈ پر دوسرے دن بھی جاری

کراچی اتوار کو تعطیل کے باوجود بلدیہ عظمیٰ کراچی کی انسداد تجاوزات کارروائی برنس روڈ پر دوسرے دن بھی جاری رہی۔

اس دوران مزید 70 سے زائد دکانیں مسمار کر دی گئیں جو گلیوں کی فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر تعمیر کی گئی تھیں

تاہم زیادہ تر لوگوں نے اپنی تعمیرات کو خود توڑا۔ برنس روڈ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں مکمل صفائی اور سڑکوں گلیوں اور فٹ پاتھوں پر تعمیر کے مکمل خاتمے تک علاقے میں کارروائی جاری رہے گی،

میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن جواس مہم کی نگرانی کررہے ہیں نے میئر کراچی کے سینئر ڈائریکٹر مسعود عالم کے ہمراہ علاقے کا دورہ کیا اور کارروائی کی نگرانی کی۔ کارروائی کے دوران گھروں کے سامنے کمرے، باتھ رومز اور دکانیں توڑیں گئیں جو غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھیں ، ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے ہدایت کی کہ کارروائی کو مزید تیز کیا جائے انہوں نے کہا کہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلا تعطل کارروائی جاری رہے گی، 
اگلی کارروائی لی مارکیٹ، کھوڑی گارڈن اور گارڈن کے علاقے میں ہوگی لہٰذا قابضین سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس مہم میں تعاون کریں اور قبضہ کی جگہ کو خود خالی کرلیں، ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا کہ برنس روڈ شہر کا قدیم علاقہ ہے یہ تاریخی عمارتیں اور قومی ورثہ ہے یہ بہت خوبصورت اور صاف ستھرا ہونا چاہئے کوشش کی جا رہی ہے یہ اصل حالت میں بحال ہو، یہاں بہت زیادہ تجاوزات قائم ہیں کارروائی کے بعد گلیوں کو دونوں جانب سے 80فیصد سے زیادہ پختہ تعمیرات سے خالی کرایا گیا ہے،

سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد ہورہا ہے فٹ پاتھوں، سڑکوں، پارکوں اور نالوں پر جو بھی تعمیرات ہوں گی اس کو صاف کردیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ناجائز تعمیرات خواہ وہ سرکاری ہو یا نجی ان کو گرایا جائے گا اس کارروائی کے دوران بلدیہ عظمیٰ کراچی سمیت سرکاری اداروں کے دفاتر اور عمارتوں کو بھی مسمار کیا گیا ہے اور بلاتفریق یہ کارروائی جاری رہے گی،

ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا کہ برنس روڈ کے بعد کھوڑی گارڈن، لی مارکیٹ، جوڑیا بازار، کھارادر، میٹھادر اور گارڈن کے علاقوں سمیت پورے شہر میں ایسے لوگوں کو یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ وہ ایسی تعمیرات کو خود توڑ دیں جو فٹ پاتھوں، نالوں یا سڑکوں اور پارکوں پر ہے اس کا سادہ اصول یہ ہے کہ جو علاقہ جس وقت آباد ہوا تھا اس وقت کے بعد جو بھی تعمیرات ہوئی وہ گلی میں ہے ،فٹ پاتھ پر یا سڑک پر غیرقانونی ہے وہ توڑ دی جائیں گی، نقصان سے بچنے کے لئے ہر شہری جو سمجھتا ہے وہ اس زمرے میں آتا ہے خود جگہ خالی کرے،

انہوں نے کہا کہ تجاوزات توڑنا پہلا فیز ہے دوسرے فیز میں ملبہ اٹھانا اور تیسرے فیز میں فٹ پاتھوں اور سڑکوں کی مرمت ہے، تینوں فیز پر بیک وقت کام جاری ہے، ایمپریس مارکیٹ کے اطراف سمیت صدر کے علاقوں سے ملبہ اٹھادیا گیا ہے اور فٹ پاتھوں و سڑکوں کی مرمت کاکام جاری ہے جبکہ لنڈا بازار سمیت دیگر علاقوں سے ملبہ اٹھایا جارہا ہے اس معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں ہوگی،

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پرانے شہر کی تاریخی عمارتوں کی صفائی اور رنگ روغن کے بارے میں بھی انتظامات کئے جارہے ہیں اور مالکان سے کہا جائے گا کہ وہ رہائشی گھروں اور عمارتوں کی تزئین و آرائش کا کام کرائیں تاکہ کراچی کی اصل حالت اور بین الاقوامی شہر کی شناخت بحال ہوسکے،

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ اس کارروائی کو جاری رکھا جائے،جاری کارروائی بلاتفریق ہے اور شہری تجاوزات کے باعث جس پریشانی میں مبتلا تھے اس سے ان کو نجات مل رہی ہے اسی وجہ سے جہاں بھی ہم نے کارروائی کی لوگوں نے تعاون کیا اب تو لوگ اپنی تجاوزات خود ہٹا رہے ہیں

انہوں نے کہا کہ برنس روڈ کے وہ لوگ بھی خوش ہیں جن کی تعمیرات ٹوٹی اور وہ بہت زیادہ خوش ہیں جو ان تنگ گلیوں میں رہائش پذیر تھے ان کو آنے جانے میں دشواری کے علاوہ گاڑی کھڑی کرنے کی بھی جگہ نہیں تھی، اب برنس روڈ کی گلیوں میں تجارتی سرگرمیاں نہیں ہوں گی یہ رہائشی علاقہ ہے اور کاروبار مین سڑک پر ہی ہوسکے گا۔

Facebook Comments

Check Also

Herald's Person

Who will be the Herald’s Person of the Year 2018?

Who will be the Herald’s Person of the Year 2018? A Pakistani News Website launch …