سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی، پارلیامانی لیڈر حلیم عادل شیخ کی سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو

ARI Expeditions

سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی، پی ٹی آئی کے پارلیامانی لیڈر حلیم عادل شیخ دیگر پی ٹی آئی کے اراکین سندھ اسمبلی کے ہمراہ سندھ اسمبلی کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے اپوزیشن لیڈر فردوش شمیم نقوی کا کہنا تھا آج اہم دن ہے کہ پی پی نے سپریم کورٹ کے فیصلو پر عمل کا اعلان کیا ہے مرتضی وھاب کے اس بیان کو ویکم کرتے ہیں جس میں انھونے احتساب کے عمل کو تسلیم کیا۔ہے پیپلز پارٹی نے 11 سال تک سندھ میں حکومت کی اسکا حساب دینا ہوگا۔

سندھ کے افسران شھادتوں میں ردوبدل کرنے سے باز آجائیں مرتضی وھاب نے عدلیہ کو تسلیم کر لیا ہے اس خوشی میں انکو مٹھائی کے ڈبے بھجوا رہے ہیں۔ آج پاکستان کے عوام کے لئے خوشی کا دن ہے کہ پی پی عدالتی فیصلوں کو تسلیم کرے گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ جی آئی ٹی رپورٹ بے بنیاد نہیں ہے، سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پانی کا اضافہ نہیں ہوا سندھ سالڈ ویسٹ کا کہیں بھی کام نظر نہیں آتا ہے۔

مرتضی وہاب کے بیان کا خرمقدم کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا جو فیصلہ آئے گا ہم قبول کرینگے۔ پی ٹی آئی پارلیامانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم نے کب کہا تھا کہ آج گرفتاری ہوگی آج بگھلے بجا رہے ہیں ہم ان کے لئے مٹھائی لیکر آئے ہیں مرتضی وہاب کے دفتر میں مٹھائی پہنچائیں گے باپ نے بیٹے کو پھنسوایا تو بیٹے نے باپ کو پھنسوایا دیا ہے نواز شریف کو بچوں نے پھنسایا اور بلاول کو باپ نے پھنسا دیا ہےکراچی سمیت پوری سندھ میں عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے، سندھ حکومت کی گیارہ سالا کارکردگی مایوس کن ثابت ہوئی ہے۔ سندھ میں کتے کاٹنے کے انجیکشن تک عوام کو میسر نہیں ہیں۔

صحت تعلیم سمیت پینےکا پانی بھی عوام کو نہیں مل رہا ہے۔گیارہ سالا سندھ میں پ پ کی حکمرانی کا دورانیہ سیاح دور کے طور پر لکھا جائے گا۔ بلاول ابھی بچہ ہے اسے باپ اور پھپھو جو تقریر لکھ کر دیتے ہیں وہ پڑھ لیتا ہے مرتضی وھاب اپنے حلقے سے دہتکارے ہوئی ہیں۔ سن کوٹے پر کام کر رہے ہیں لیکن کم ووٹ لینے کے طعنے مجھے دیتے ہیں مرتضی وھاب کی سربراہی میں کمیٹی پولیس اصلاجات کے نام پر پولیس کو اپنا غلام بنانا چاہتے ہں سندھ کو پولیس اسٹیٹ بنانے کیلئے آئی جی سندھ کے اختیارات کو کم کیا جا رہا ہے سندھ میں پولیس گردی کا کلچر رہا ہے جسکو پی پی واپس بحال کرنا چاہتی ہے سپریم کورٹ نے وزیر اعلی کا نام ای سی ایل سے نکالا ہے انکا نام جی آئی ٹی میں موجود سندھ میں کرپشن کا جواب وزیر اعلیٰ کو دینا پڑے گا احستاب ان کا بھی ہوگا۔

اب نہ کوئی ڈیل ہوگی نہ ڈھیل ہوگی عوامی اشوز پر مک مکہ نہیں کرینگے۔ پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی کی اراکین سندھ اسمبلی جمال صدیقی، ڈاکٹر سعید آفریدی، ارسلان تاج گھمن،ریاض حیدر، کیپٹن رضوان سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

جاری کردہ محمد علی بلوچ میڈیا کوآرڈینٰٹر حلیم عادل شیخ

Facebook Comments

KaprayWapray.com

Facebook Comments