سائرہ باجی بھی تو ایک بہن ہیں۔۔۔ تحریر عمیر دبیر

ARI Expeditions

میں نے کچھ دیر قبل ایک ٹویٹ کیا جس میں یہ تحریر کیا کہ

’’ ایک کی بہن فریال تالپور اور دوسرے کی علیمہ

آؤ تھمیں ایک اور کی بہن کا بتاؤں جس کا نام سائرہ ہے اور انہیں سائرہ باجی کہا جاتا ہے۔

خورشید بیگم کی صاحبزادی کی مجموعی پراپرٹی شوہر کا 120 گز کا گھر ہے، کوئی سرکاری نجی ادارے کی بورڈ آف ڈائریکٹر نہیں ‘‘

اس ٹویٹ نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کیا کچھ نے ایسے ہولناک انکشاف کیے جو پڑھ کر میں خود چونک گیا اور کچھ نے اسے بے حد پسند کیا۔

انکشافات کرنے والے اس بات سے بے خبر رہے دراصل یہ ’سائرہ باجی‘ کون ہیں ؟ یہی بات ٹویٹ پسند کرنے والوں نے بھی مدنظر رکھی۔

اب تک اس ٹویٹ کی نصف سنچری مکمل ہوگئی جبکہ اس سے زیادہ صارفین نے دل کے نشان پر کلک کرنے کو ترجیح دی۔

اب آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ کون سائرہ باجی ہیں؟                  

ہمارے علاقے میں ایک خاتون رہائش پذیر ہیں جن کا نام سائرہ ہے، وہ سب کو سپارہ پڑھاتی تھیں تو اسی وجہ سے ہم سب بچے انہیں ’سائرہ باجی‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے، اتفاق سے اُن کی والدہ کا نام بھی خورشید بیگم ہی تھا۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہندوستان سے بالخصوص کراچی آنے والی بڑی بوڑھیاں اپنے نام کے ساتھ پہلے ’بیگم‘ لگانے کو ترجیح دیتی تھیں مگر اب ایسا نہیں ہے۔

یہ ہیں وہ سائرہ باجی جن کا میں نے علیمہ خان اور فریال تالپور سے مؤازنہ کیا، کیونکہ یہ بھی آصف زرداری اور عمران خان کی ہمشیرہ کی طرح ہی پاکستانی ہیں۔ ان کی مجموعی پراپرٹی 120 گز کا گھر ہے جو شوہر کے نام پر ہے۔

باقی صارفین نے جن سائرہ باجی کا ذکر کیا وہ بھی ہمارے لیے قابل احترام ہیں کیونکہ ہمیں سب کے احترام کی تربیت دی گئی۔ اب اگر مان بھی لیا جائے کہ وہ والی سائرہ باجی جن کا ذکر صارفین نے جواب میں کیا اور انکشافات کیے۔ جتنا میں انہیں جانتا ہوں تو اگر واقعی ایسا ہوتا تو انہیں سرکردہ رہنماؤں کی طرح ڈیفنس میں گھر لینے میں کون سی مشکل تھی؟

سائرہ باجی کے حوالے سے انکشافات اور کچھ سوالات

جیسے انکشافات ہوئے کہ انہوں نے  بھرپور عیاشی کی ، دبئی میں ہوٹل بنائے، لندن میں 22 پراپرٹیز بنائیں اور کینیڈا میں بہت ساری جائیدادیں خریدیں ساتھ ہر ماہ پارٹی سے ڈیڑھ لاکھ روپے کی خطیر رقم ماہانہ اخراجات لیے۔

گاڑی، پروٹوکول اور پیٹرول کے اخراجات اپنی جماعت سے ہر ماہ لے کر پورے کیے اور خوب مزے کیے، اتنے مزے کہ علیمہ خان اور فریال تالپور کی طرح کبھی بھوکی نہیں رہیں۔

حالانکہ زرداری صاحب اور عمران خان کی اہلیہ تو بغیر پروٹوکول، پبلک بس میں سفر کرتی ہیں اور بے چاری ایک جوڑہ بھی سالوں پہنتی ہیں، اگر ایسا موازنہ کیا جائے تو واقعی سائرہ باجی نے خوب عیاشی کی اور مزے لوٹے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مقامی قیادت نے ہر چیز سے لاتعلقی کردی تو سائرہ باجی اب کس طرح اپنا گزر بسر کررہی ہیں؟ کیا اب بھی انہیں ایم کیو ایم پاکستان انہیں ماہانہ اخراجات ادا کررہی ہے؟ اگر ہاں تو یہ ایک بڑا سوال ہے اور اگر ایسا نہیں تو بانی ایم کیو ایم تو ویسے بھی خود معاشی تنگ دستی کا شکار ہیں۔

Facebook Comments

KaprayWapray.com

Facebook Comments